بجٹ 2026-27 اور سرکاری ملازمین — اصل ماجرا کیا ہے؟
بجٹ 2026-27 کا انتظار پاکستان کے لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔ ملک بھر میں تقریباً تیس لاکھ سے زائد وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین اور ان کے خاندان بے چینی سے ایک ہی سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں — کیا اس بار تنخواہ میں کوئی حقیقی ریلیف ملے گا؟
وزارتِ خزانہ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق 7 فیصد تنخواہ اضافہ اور 5 فیصد پنشن اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ لیکن کیا یہ صرف ایک افواہ ہے یا حقیقت میں کچھ ملنے والا ہے؟
اس مضمون میں ہم آپ کو مکمل حقیقت، BPS وار تنخواہ چارٹ، IMF کی شرائط، صوبائی اپڈیٹس اور گزشتہ سالوں کا موازنہ — سب کچھ ایک جگہ فراہم کریں گے۔
اب تک کیا خبر ہے؟ تازہ ترین اپڈیٹ مئی 2026
متعدد قابلِ اعتماد ذرائع — بشمول اے آر وائی نیوز، ڈیلی اوصاف، پاکستان آبزرور اور ایم ایم نیوز — کی رپورٹس کے مطابق صورتِ حال کچھ اس طرح ہے:
تازہ اپڈیٹس اور نوکریوں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں
چینل جوائن کریں(آپ کا نمبر کسی کو نظر نہیں آئے گا)
- سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 7 فیصد اضافہ زیرِ غور ہے
- ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافہ ممکن ہے
- وزارتِ خزانہ نے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا
- حتمی فیصلہ حکومت کی مالیاتی گنجائش اور ریونیو اہداف دیکھنے کے بعد ہوگا
- تنخواہ دار طبقے کو اضافی مراعات دینے پر بھی غور ہو رہا ہے
⚠️ اہم نکتہ: یہ تجاویز ابھی صرف زیرِ غور ہیں۔ بجٹ پیش ہونے پر ہی حتمی اعلان ہوگا۔ کسی غیر سرکاری ذریعے پر یقین نہ کریں۔
کتنا اضافہ ملنے کی امید ہے؟ گریڈ وار تفصیل
اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو BPS گریڈ کے مطابق اضافہ کچھ اس طرح ہو سکتا ہے۔ یاد رہے یہ صرف بنیادی تنخواہ پر حساب ہے — الاؤنسز اس کے علاوہ ہوں گے:
| BPS گریڈ | موجودہ بنیادی تنخواہ (تخمیناً) | 7 فیصد اضافے کے بعد |
|---|---|---|
| BPS-01 | 15,000 روپے | 16,050 روپے |
| BPS-04 | 18,000 روپے | 19,260 روپے |
| BPS-07 | 24,000 روپے | 25,680 روپے |
| BPS-11 | 32,000 روپے | 34,240 روپے |
| BPS-14 | 42,000 روپے | 44,940 روپے |
| BPS-16 | 55,000 روپے | 58,850 روپے |
| BPS-17 | 75,000 روپے | 80,250 روپے |
| BPS-18 | 100,000 روپے | 107,000 روپے |
| BPS-20 | 130,000 روپے | 139,100 روپے |
| BPS-22 | 200,000 روپے | 214,000 روپے |
یہ ارقام تخمیناتی ہیں۔ حتمی تنخواہ میں DRA، ARA اور دیگر الاؤنسز بھی شامل ہوتے ہیں۔

پنشن ہولڈرز کو کیا ملے گا؟
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے بھی خبر آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق:
- نیٹ پنشن پر 5 فیصد اضافہ زیرِ غور ہے
- یہ اضافہ خالص (نیٹ) پنشن پر ہوگا، گراس پر نہیں
- وفاقی پنشنرز اس سے براہِ راست مستفید ہوں گے
- ملک بھر کے ہزاروں پنشنرز اس فیصلے کے منتظر ہیں
موازنہ: گزشتہ بجٹ 2025-26 میں پنشنرز کو 7 فیصد اضافہ ملا تھا۔ اس بار مہنگائی 10.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے — ایسے میں صرف 5 فیصد اضافہ پنشنرز کی اصل ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی لگتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی یونینز بھی یہی سوال اٹھا رہی ہیں۔
مہنگائی کا بوجھ: کیوں ضروری ہے اضافہ؟
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے تازہ ترین اعداد و شمار ایک تکلیف دہ تصویر پیش کرتے ہیں:
- اپریل 2026 میں مہنگائی 10.9 فیصد سالانہ تک پہنچ گئی
- وزارتِ خزانہ کا اندازہ صرف 8 تا 9 فیصد تھا — حقیقت کہیں زیادہ نکلی
- مارچ 2026 میں مہنگائی 7.3 فیصد تھی — صرف ایک مہینے میں بڑی چھلانگ
- شہری علاقوں میں 11.1 فیصد مہنگائی، دیہی میں 10.6 فیصد
- ماہانہ بنیاد پر مہنگائی 2.5 فیصد بڑھی جبکہ مارچ میں یہ 1.2 فیصد تھی
اصل حقیقت: اگر تنخواہ میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی 10.9 فیصد ہے، تو سرکاری ملازم کی اصل خریداری طاقت درحقیقت گھٹ رہی ہے — بڑھ نہیں رہی۔ یہ وہ تلخ سچائی ہے جو حکومتی تقریروں میں نہیں ملتی۔
IMF کی شرائط کا تنخواہ پر کیا اثر ہے؟
پاکستان ابھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے 7 ارب ڈالر Extended Fund Facility (EFF) پروگرام کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ 1.4 ارب ڈالر Resilience and Sustainability Facility (RSF) بھی زیرِ عمل ہے۔
IMF نے Pakistan کے لیے جو شرائط رکھی ہیں وہ بجٹ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں:
1. FBR ریونیو ہدف: 15.08 کھرب روپے — اسی سے تنخواہ بڑھانے کا بجٹ آتا ہے
2. مالیاتی نظم و ضبط: غیر ضروری اخراجات کم کرنا لازمی ہے
3. سرکاری پے رول: IMF کی ترجیح سرکاری ملازمین کی تعداد اور تنخواہوں کو محدود رکھنا ہے
یہی وجہ ہے کہ حکومت بڑے اضافے کی بجائے صرف 7 فیصد پر ہی رُک سکتی ہے — بڑا اضافہ IMF کو منظور نہ ہوگا اور نئی قسط کا اجراء رُک سکتا ہے۔
گزشتہ سالوں کا موازنہ: کیسا رہا اضافہ؟
سرکاری ملازمین کے لیے گزشتہ بجٹس کا اضافہ کچھ اس طرح تھا:
| بجٹ سال | تنخواہ اضافہ گریڈ 1-16 | تنخواہ اضافہ گریڈ 17+ | پنشن اضافہ |
|---|---|---|---|
| 2022-23 | 15 فیصد | 10 فیصد | 5 فیصد |
| 2023-24 | 30 فیصد + DRA | 25 فیصد + DRA | 17.5 فیصد |
| 2024-25 | 25 فیصد | 20 فیصد | 15 فیصد |
| 2025-26 | 10 فیصد + DRA 30 فیصد | 10 فیصد + DRA 30 فیصد | 7 فیصد |
| 2026-27 (متوقع) | 7 فیصد | 7 فیصد | 5 فیصد |
اس جدول سے واضح ہے کہ اضافے کا تناسب ہر سال کم ہو رہا ہے — یہ IMF پروگرام کی پابندیوں کا براہِ راست اثر ہے۔

پنجاب، سندھ، KPK، بلوچستان — صوبائی ملازمین کا کیا؟
عام طور پر صوبائی حکومتیں وفاقی بجٹ کے بعد اپنے بجٹ میں ملتا جلتا اضافہ کرتی ہیں:
پنجاب: وفاقی اضافے کے برابر یا تھوڑا زیادہ دینے کی روایت۔ 2025-26 میں پنجاب نے وفاقی کے بعد جلد اعلان کیا تھا۔
تازہ اپڈیٹس اور نوکریوں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں
چینل جوائن کریں(آپ کا نمبر کسی کو نظر نہیں آئے گا)
سندھ: عام طور پر وفاقی سے میل کھاتا ہے لیکن نوٹیفیکیشن کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ سندھ کے اپنے خصوصی الاؤنسز بھی ہیں۔
خیبر پختونخوا: KPK کے اپنے الگ پے اسکیل ہیں۔ 2025 میں KPK کی Disparity Reduction Allowance 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کی گئی تھی۔
بلوچستان: مالیاتی تنگی کی وجہ سے اضافہ عام طور پر وفاقی کے برابر ہوتا ہے، کبھی کبھی دیر سے۔
اہم نوٹ: صوبائی ملازمین کے لیے اضافہ تبھی نافذ ہوگا جب ان کی صوبائی حکومت اپنا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ وفاقی بجٹ کا صوبائی ملازمین پر خودبخود اطلاق نہیں ہوتا۔
بجٹ 2026-27 کب پیش ہوگا؟
پاکستان میں وفاقی بجٹ عام طور پر جون کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے:
- بجٹ پیشکش: جون 2026 کا پہلا ہفتہ (متوقع)
- نفاذ: یکم جولائی 2026 سے
- تنخواہ نوٹیفیکیشن: بجٹ تقریر کے بعد فنانس ڈویژن جاری کرے گا
- صوبائی بجٹ: وفاقی بجٹ کے ایک سے دو ہفتے بعد
سرکاری ملازمین کو ابھی کیا کرنا چاہیے؟
- کسی غیر سرکاری ذریعے کی “تصدیق شدہ” خبر پر یقین نہ کریں
- وزارتِ خزانہ کی سرکاری ویب سائٹ finance.gov.pk کو فالو کریں
- اپنے محکمے کے سرکاری سرکلرز کا انتظار کریں
- فنانس ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھیں
- بجٹ تقریر خود سنیں — سرکاری ٹی وی پر لائیو آتی ہے

✅ 6. اکثر پوچھے گئے سوالات — FAQ
سوال 1: بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ کتنی بڑھے گی؟
ذرائع کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 7 فیصد اضافہ زیرِ غور ہے، جبکہ پنشنرز کو 5 فیصد اضافہ ملنے کی امید ہے۔ تاہم وزارتِ خزانہ نے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ حتمی فیصلہ بجٹ پیشکش پر ہوگا۔
سوال 2: پاکستان میں بجٹ 2026-27 کب پیش ہوگا؟
پاکستان کا وفاقی بجٹ عام طور پر جون 2026 کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے۔ نفاذ یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ تنخواہ اضافے کا نوٹیفیکیشن بجٹ کے بعد فنانس ڈویژن جاری کرے گا۔
سوال 3: کیا پنشن میں بھی اضافہ ہوگا بجٹ 2026-27 میں؟
جی ہاں، رپورٹس کے مطابق ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی نیٹ پنشن میں 5 فیصد اضافہ دیے جانے کی توقع ہے۔ گزشتہ سال (بجٹ 2025-26) میں یہ اضافہ 7 فیصد تھا۔ مہنگائی کی شرح پیشِ نظر پنشنرز کہیں زیادہ اضافے کی امید رکھتے ہیں۔
سوال 4: IMF اور پاکستان کے بجٹ میں تنخواہ کا کیا تعلق ہے؟
پاکستان ابھی IMF کے 7 ارب ڈالر Extended Fund Facility پروگرام کا حصہ ہے۔ IMF کی مالیاتی نظم و ضبط کی شرط کی وجہ سے حکومت بڑے اضافے کی بجائے صرف 7 فیصد پر رک سکتی ہے۔ FBR کا ریونیو ہدف 15.08 کھرب روپے رکھا گیا ہے جس سے تنخواہ بڑھانے کا بجٹ آتا ہے۔
سوال 5: گزشتہ بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کو کتنا اضافہ ملا تھا؟
بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کو 10 فیصد بنیادی تنخواہ اضافہ اور 30 فیصد Disparity Reduction Allowance (DRA) دیا گیا تھا۔ پنشنرز کو 7 فیصد نیٹ پنشن اضافہ ملا تھا۔ معذور ملازمین کا Special Conveyance Allowance 4,000 سے بڑھا کر 6,000 روپے ماہانہ کیا گیا تھا۔
سوال 6: کیا صوبائی سرکاری ملازمین کو بھی یہی اضافہ ملے گا؟
صوبائی (پنجاب، سندھ، KPK، بلوچستان) ملازمین کو وفاقی بجٹ کے بعد اپنی اپنی صوبائی حکومت کی طرف سے الگ نوٹیفیکیشن کا انتظار کرنا ہوگا۔ عام طور پر صوبائی اضافہ وفاقی کے برابر ہوتا ہے لیکن وقت مختلف ہوتا ہے۔
سوال 7: BPS گریڈ 1 سے 22 تک تنخواہ اضافے کا کیا اثر ہوگا؟
اگر 7 فیصد اضافہ منظور ہوتا ہے تو ہر BPS گریڈ میں بنیادی تنخواہ میں اتنی ہی فیصد بڑھوتری آئے گی۔ مثال کے طور پر اگر کسی کی بنیادی تنخواہ 50,000 روپے ہے تو اضافے کے بعد 53,500 روپے ہو جائے گی — باقی الاؤنسز اس کے علاوہ ہوں گے۔

زوہی خان ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور متحرک پیشہ ور ہیں جو طویل عرصے سے سرکاری اسکیمز اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ عوام اور حکومتی نظام کے درمیان ایک مضبوط معلوماتی رابطے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عام شہری کو ایسی درست، مستند اور بروقت معلومات فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ سرکاری اسکیموں، مراعات اور سہولتوں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔
